top of page

انصاف بعد از مرگ

Updated: Aug 8, 2023


تحریر: رمضان علی ہزارہ


مظفر گڑھ کا رہائشی ، وزیر احمد ایک فاطر العقل شخص تھا۔ سال ۱۹۹۷ء میں ان کے کچھ رشتہ دار ان کے اراضی پر قابض ہوتے ہیں اور ملکیت کا دعوی کرتے ہیں۔ ذہنی فرسودگی کے باعث وزیر احمد اس قابل نہیں تھا کہ وہ عدالتی جنگ لڑ سکے۔ اس لئے ان کے احباب میں سے کچھ نیک دل لوگ ان کا مقدمہ لڑنے کا فیصلہ کرتے ہیں اور مظفر گڑھ کی مقامی عدالت میں دعوی استقرار حق داخل کرتے ہیں۔ اس کے بعد اس مقدمے کا اندراج بعنوان وزیر احمد بنام صاحب بی بی ہوجاتا ہے۔ ۱۹۹۷ء میں جب یہ مقدمہ داخل ہوتا ہے اس وقت وزیر احمد زندہ تھے ساتھ میں ان کے پاس گواہوں کی ایک لمبی فہرست بھی موجود تھی ۔ یہ مقدمہ ۲۰۱۱ء تک جاری رہتا ہے اوراس طرح ۱۴ سال اس مقدمے کو لڑتے لڑتے آخر کار وزیر احمد اپنی زندگی کی بازی ہار جاتا ہے۔ نہ صرف وزیر احمد بلکہ ان کے وہ احباب جنہوں نے یہ مقدمہ دائر کرایا تھا وہ بھی اس دار فانی سے کوچ کرجاتے ہیں جبکہ گواہان بھی ایک ایک کرتے سارے مرجاتے ہیں لیکن اس چھوٹے سے مقدمے کا فیصلہ نہیں ہوپاتا۔ سال ۲۰۱۱ میں جب فاضل سول جج اس مقدمے کا فیصلہ سناتے ہیں تو اس وقت سائلین میں سے ایک بھی زندہ نہیں ہوتا۔ یوں وزیر احمد کو انصاف ملتا ہے لیکن اس کی موت کے بعد۔


 
"کیا ۱۴ سالوں کے بعد آنے والا فیصلہ فوری انصاف ہو سکتا ہے؟"
 

وزیر احمد کا مقدمہ ہمارے عدالتی نظام پر کئی سوال اٹھاتے ہیں ۔ کیا ۱۴ سالوں کے بعد آنے والا فیصلہ فوری انصاف ہو سکتا ہے؟ کیا عدالتی نظام مردوں کو انصاف فراہم کرتا ہے یا اس کا منشاء زندہ شہریوں کو انصاف فراہم کرنا ہے ؟ ہمارے آئین کے آرٹیکل ۳۸میں اس بات کی انتہائی صراحت کے ساتھ ذکر ہوا ہے کہ فوری اور سستے انصاف کی فراہمی نہ صرف ہر شہری کا حق ہے بلکہ عدلیہ کی اولین ذمہ داری بھی ہے۔ لیکن افسوس کے ساتھ اس حقیقت کا اعتراف کرنا پڑے گا کہ انصاف کی طرف جانے والا راستہ نہ صرف طویل ہے بلکہ انتہائی کٹھن اور صبر آزما بھی ۔


سال ۲۰۱۴ میں جب راقم سپریم کورٹ اآف پاکستان میں فاضل جج جسٹس اقبال حمید الرحمان کے ساتھ بطور لاء کلرک/ ریسرچ ایسوسی ایٹ کا م کر رہا تھا تو سابق چیف جسٹس ، جسٹس جوادایس خواجہ نے لاء کلرکس کو انصاف میں تاخیر کے موضوع پر تحقیقی مقالہ مرتب کرنے کو کہا۔ راقم نے اس وقت جس موضوع کا انتخاب کیا وہ اس سوال پر مبنی تحا کہ کس طرح فاضل ججز کے صوابدیدی اختیارات جیسے ایڈرجمنٹ انصاف کی فراہمی کو موخر کرتے ہیں۔ اس بارے جب گزشتہ ایک سال کی فہرست کا مطالعہ کیا گیا تو پتہ چلا کہ صرف ۲۰۱۴ سے ۲۰۱۵ تک سپریم کورٹ میں ۳۱۲ مقدمات میں ایڈجرمنٹ [سماعت کی موخری] کا حکم دیا گیا۔ وہ مقدمات جن کی سماعت موخر کی گئی ان میں سے ۹۵فیصد مقدمات دیوانی [سول] جبکہ ۵فیصد مقدمات فوجداری [کریمینل] تھے۔ اس کے بعد جو سوال تحقیق طلب تھا وہ یہ تھا کہ عدالت کن وجوہات کی بنیاد پر مقدمے کی سماعت موخر کر سکتی ہے۔ اس بارے جب وکلاء کی جانب سے دائر ہونے والی درخواستوں کا جائزہ لیا گیا تو پتہ چلا کہ ۳۱۲ میں سے ۱۸۷ مقدمات کی سماعت صرف وکلاء کی بیماری کی وجہ سے موخر ہوئی۔ اس کے علاوہ ۲۰۱۴ میں پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے ڈی چوک میں جو دھرنا دیا گیا تھا اس کی وجہ سے بھی انصاف کا عمل بری طرح متاثر ہوا ۔ کیونکہ موخر ہونے والے ۳۱۲ مقدمات میں سے ۲۲ مقدمات وہ تھے جن میں وکلاء نے دھرنے کی وجہ بتاکر مقدمے کی کارروائی موخر کرائی تھی۔ یہاں اس امر کی وضاحت انتہائی ضروری ہے کہ برطانیہ میں اگر کوئی وکیل بیماری کی بنیاد پر مقدمے کی کارروائی موخر کرنا چاہے تو اس کے لئے لازم ہے کہ وہ درخواست کے ہمراہ میڈیکل سرٹیفکیٹ بھی لف کریں۔ ہمارے قانون اور ضابطے میں چونکہ ایسی کوئی شرط نہیں رکھی گئی ہے اس لئے وکلاء اکثر میڈیکل گرائونڈ پر ہی ایڈجرمنٹ لے لیتے ہیں۔ ایڈجرمنٹ اتنی تواتر سے لے لی جاتی ہے کہ اکثر انصاف کی فراہمی کا عمل متاثر ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر محمد سعید بنام زرینہ مائی کا مقدمہ جس میں سول جج خانیوال نے ایک کارروائی سے دوسری کارروائی مکمل ہونے تک ۱۹ سال لگا دئیے اور وکیل کی درخواست پر ۱۷۸ مرتبہ مقدمے کی کارروائی موخر کی گئی۔


آخر میں اس امر کی وضاحت بھی انتہائی ضروری ہے کہ عدلیہ پر عوام کے اعتماد کو بحال رکھنے کے لئے ہماری اعلی عدلیہ کو چاہئے کہ وہ انصاف کی راہ ہموار کرے اور فوری انصاف کی فراہمی کو یقینی بنائین۔ ۲۷ جون ۲۰۱۹ کو جب ای۔ کورٹ سسٹم کا افتتاح ہوا تو چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس آصف سعید کھوسہ صاحب نے اسی عزم کا اعادہ کیا کہ ای۔ کورٹ سسٹم کے ذریعے ایڈجرمنٹ کی حوصلہ شکنی کی جائے گی تاکہ مقدمات کی کارروائی موخر نہ ہو اور عوام کو فوری انصاف مل سکے۔ ہم اس عزم کی تکمیل کیلئے دعا گو ہیں۔




Ramzan Ali Hazara

راقم قانون کے شعبہ سے وابستہ ہے اور ابلاغیات میں ماسٹر ڈگری کا حامل ہے۔ ۲۰۱۴ سے ۲۰۱۵ تک سپریم کورٹ میں فاضل جج کے ساتھ بطور ریسرچ ایسوسی ایٹ کام کرتا رہا۔ اب انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی اسلام آباد میں ایل ایل ایم کا اسکالر ہے۔

Comments


bottom of page